تعلیم ہنر کے بغیر ادھوری

 تعلیم ہنر کے بغیر ادھوری
شروع اللہ تعالیٰ کے نام سے جس نے ہمیں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے نوازا اور لاکھوں درود وسلام آقائے دو جہاں ﷺ کی ذات پر جن کی نسبت سے ہمیں اشرف المخلوقات ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ پہلی وحی سے ہی علم کی اہمت کو واضع کردیا گیا تھا۔ معاشی اور معاشرتی نظام کو بہتر بنانے کے لیے جہاں علم کی ضرورت ہے وہاں ہنر کی اہمیت سے قطعی انکار ممکن نہیں۔لیکن کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہمارے پالیسی میکر ز نے ان دونوں شعبوں کو الگ الگ مقام دے رکھا ہے جو کہ ایک ناانصافی ہے۔ہمارے علاقوں میں سرکاری اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے باواجود آپ کے مشاہدے میں یہ بات تو ضرور آئی ہو گی کہ اکثر متوسط طبقے کے اور زیادہ تر غریب کے بچے پرائمری سے اوپرتعلیم حاصل نہیں کرسکتے۔اس کی بنیادی وجہ تو غربت ہے جو نہ تو غریب کے بچے کو آگے پڑھنے دیتی ہے اور نہ ہی کسی اچھے شعبے کو اختیار کرتے ہو ئے وہ اپنا مستقبل جو کہ بلا کسی شک و شبہ پاکستان کا مستقبل ہے کو محفوظ بناسکتے ہیں۔ایسے افراد کی اولین ترجیح یہی ہوتی ہے کہ ان کابچہ شام کو سو، پچاس کما کر لائے نہ کہ وہ دوسرے بچوں کی طرح وردی،شوز یا پھر سکول کی فیس ادا کرنے کے لیے ماں باپ کو تنگ کرے۔اس سو،پچاس کے لیے یا تو کسی ہنر پر لگادیتے ہیں جہاں سے استاد کی گالیو ں کے ساتھ اسے شام کو تیس یا پچاس روپے بھی مل جائیں اور چار پانچ سال تک اپنا کام کرنے کے قابل ہو جائے،نہیں تو چھوٹو بننا تو عام بات بن چکی ہے۔
اب جب کہ ایسا بچہ ہشتم تک تعلیم حاصل کر لے تو وہ سمجھتا ہے کہ فوج یا کسی اور  ادارے میں درجہ چہارم میں بھرتی ہونے کے قابل ہوگیا ہے یاپھر غیر ممالک کے ویزے کی تلاش ہی ان کا مقصد بن جاتا ہے۔اکثر تو مالی بیک گراؤنڈ مضبوط نہ ہونے کی وجہ سے آس پاس کی بستی میں گارا اور اینٹیں بنانے کے کام میں جت جاتے ہیں۔اب رہی میٹرک کی بات شاذ و ناظر اگر کوئی وہاں تک پہنچ بھی جائے تو ماشاء اللہ آج کل سرکاری اساتذہ نے اپنے ہی سکول کے سامنے یا آس پاس کے علاقوں میں پرائیویٹ اکیڈمیز کھول رکھی ہیں جن سے بچنا محال ہے۔کوئی بھی طالب علم سکول کے بعد اگر اکیڈمی نہیں آتا تو اس کی شامت آجاتی ہے۔اب اس شامت سے بچنے کے لیے یا تو اسے ہزاروں روپے فیس کا انتظام کرنا پڑتا ہے یا پھر سکول کو خیر باد کہہ کر وہ بھی ہنر،مزدوری  اور غیر ممالک کو ترجیح دینا شروع کر دیتا ہے۔
اب رہی ان بچوں کی باری جو ایف۔اے یا ایف۔ایس۔سی تک پہنچ جاتے ہیں۔لامحالہ وہ کسی صورت بھی تعلیم کو چھوڑنا نہیں چاہتے اور پرائیویٹ فیسیں ادا کرنا ان کا مقدر بن جاتا ہے۔حالانکہ ان مہنگی ترین اکیڈمیوں میں نہ تو سائنس لیب ہوتی ہے اور نہ ہی لائبریریز کا نام و نشاں۔ جس کی وجہ سے ڈگریا ں تو بہت ہیں مگر عملی میدان میں کوئی خاطرخواہ رزلٹ سامنے نہیں آیا۔یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ ایک ادارہ اپنے چند پوزیشن ہولڈرز کے بینرز تو آویزاں کرتاہے مگر کافی تعداد میں فیل ہونے والے کی تعدا د کا ذکر کہیں نہیں ہوتا۔نہ توسائنس کی دنیا میں ہم ترقی کر رہے ہیں اور نہ ہی اخلاقی دولت کی ہوس ہے ہمیں۔اور بھلا یہ سب ہو بھی کیوں کرجہاں ملک کوچلانے کے لیے کوئی رینگ رہا ہے تو کوئی کسی کی ٹانگیں کھینچنے میں مصروف ہے نہ تو عوام کی ہے اور نہ ہی اس مشکل وقت کی فکر جب ہمارے نوجوان بے یارو مد گار صرف دعاؤں پر انحصار کریں گے۔
تعلیم ہنر کے بغیر ادھوری ہے اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے بھی دنیا کا مقابلہ کرنے کے لیے ہر دم تیار رہیں تو انہیں پرائمری سے لے کر ماسٹر تک تعلیم کے ساتھ ساتھ ہنر مند بھی بنانا ہو گا۔اس کے لیے ضروری ہے کہ  پرائمری میں بنیادی تعلیم کے سا تھ کم از کم ناظرہ قرآن اور احادیث مبارکہ کی تعلیم بھی دی جائے۔چھٹی کلاس میں داخلے کے ساتھ ہی سکول میں حفظ قران، درزی،موٹر سائیکل مکینک اور الیکٹریشن میں سے کسی ایک کلاس میں داخلہ لینا بھی لازمی قرار دیا جائے۔ان سب کلاسسز کا اہتمام ہر سرکاری اور پرائیویٹ اداروں میں ہونا چاہے۔جونہی ایک طالب علم آٹھویں کلاس پاس کرے اسے ان میں سے کسی ایک ڈپلومہ کی سند بھی دی جائے جس کا تعلق صرف تھیوری سے نہیں بل کہ پریکٹیکل کے ساتھ رہا ہو۔اور بچیوں کے لیے حفظ قران یا سلائی کا کام لازمی سکھانا قرار دیا جائے۔اس طرح مڈل کی تعلیم مکمل کرنے کے ساتھ ہی ہر طالب علم ہنرمند ہو گا۔ جس سے بچے کسی ہوٹل پر چھوٹو بننے سے ببچ جائیں گے اور ان کی عزت نفس متاثر نہیں ہوگی۔غریب بچہ میڑک کی تعلیم حاصل کرنے سے ذرا بھی نہیں ہچکچائے گا کیوں کہ وہ سیکنڈ ٹائم اپنے ہنر سے اپنی فیس کا انتظام کرسکے گا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ سرکاری اداروں میں تعلیم مفت دی جاتی ہے مگر بچوں کو اکیڈمیز کے لیے اکسایا جاتا ہے جس کی وجہ سے غریب بچہ آگے تعلیم حاصل کرنے سے قاصر رہتا ہے۔میٹرک میں چونکہ  بنیادی سبجیکٹس کے ساتھ کمپیوٹر کو لازمی قرار دینے سے ہمارے نوجوان جدید علوم اور کمپیوٹر کی دنیا سے منسلک ہو سکیں گے۔کمپیوٹر بھی صر ف تھیوری تک مشتمل نہ ہو بل کہ ان پیج اردو،ایم۔ایس۔آفس اور ڈیزانئنگ کے علاوہ انٹر نیٹ کی دنیا تک رسائی دی جائے۔ ان کی اپنی الگ ایک پہچان ضرور ہے مگر بعد میں ان کورسسزمیں صرف وہی طالب علم ہی دل چسپی کامظاہر ہ کرتا ہے جو مکمل طور پر تعلیم سے وابستہ رہا ہو۔اس تعلیم اور ہنر کو ساتھ چلانے کے لیے ضرور کچھ نہ کچھ پلاننگ کرنا ہوگی اور یہ کا م صر ف اورٖصرف شعبہ تعلیم سے منسلک لوگ ہی کر سکتے ہیں۔
کبھی شہر ت کبھی عزت کبھی دولت کے سوالی ادارے
   ہیں علم سے بھرے ہوئے اور عمل سے خالی ادارے
zahid Hussain Zahid

Post a Comment

Previous Post Next Post